کورونا کے شکار اٹلی میں افریقا کا خوب صورت چہرہ


 برسوں ظلم سہنے والے افریقی تارکین وطن مشکل وقت میں اطالوی باشندوں کے مددگاربن گئے۔ فوٹو: فائل

 برسوں ظلم سہنے والے افریقی تارکین وطن مشکل وقت میں اطالوی باشندوں کے مددگاربن گئے۔ فوٹو: فائل

سیاحوں کی جنت اٹلی میں افریقوں نے نسل کی بنا پر بہت امتیازی سلوک جھیلا۔ اٹلی کا حوالہ یہاں سالوں سے بسنے والے افریقیوں کی کبھی شناخت نہ بن پایا۔

کالی چمڑی والوں کے ساتھ گوروں کے دیس میں یہ سلوک کوئی نیا نہیں لیکن گہرے رنگ کے پیچھے بارہا افریقا کا خوب صورت چہرہ بھی دمکا جسے دنیا جان بوجھ کر نظر انداز کرتی رہی اور یو  ان کاظاہری رنگ ساری باطنی خوب صورتی پہ حاوی ہوتا چلا گیا۔

پوری دنیا میں تباہی مچانے والی کورونا نامی اس خطرناک وبا نے جن ممالک کو زیادہ زخمی کیا ان میں اٹلی کا نام بھی سرفہرست ہے۔یہاں ہونے والے سخت لاک ڈاؤن میں اٹلی کے عوام گھروں میں محصور ہیں لیکن چند افریقی لڑکے اس بڑے بحران میں خدمت اور ہمت کی ایک نئی مثال قائم کررہے ہیں۔یہ نوجوان خوف کی فضا میں عائد کردہ  لاک ڈاؤن میں گھروں میں محصورمقامی اطالوی باشندوں کو پیٹ بھرنے کا سامان ان کے گھروں پر فراہم کررہے ہیں۔

یہ افریقی نوجوان  دن رات ،دہی ، پھل اور سبزیوں کو بروقت لوگوں تک پہنچاکر انسانیت کو سانسیں فراہم کرنے کے لیے مصروف ِ عمل ہیں ۔ ان کا تعلق اسی کالی چمڑی سے ہے جس کی بنا پر ان کا وجود اپنی سرزمین پر قبول کرنے میں اٹلی کی سرکار سے لے کر عوام تک سب کی نسل پرستانہ سوچ  مانع تھی۔

اٹلی میں روزانہ سورج بھی اپنا کام کل پہ موقوف کر کے غروب ہوجاتا ہے لیکن یہ لڑکے بنا رکے اپنا کام کیے جارہے ہیں کیوں کہ ان کا کام غذائی اشیا کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا اور انہیں بروقت گھروں پر فراہم کرنا ہے ۔ وبا کے دور میں یہ افریقی لڑکے سڑکوں پہ ہیں لیکن اٹلی کی خواب ناک سڑکوں پر عیاشی اور تفریح کرنا پہلے ان کا مقدر نہ تھا اور اب ان کا مقصد نہیں ہے ۔  ضایع کرنے کو ایک لمحہ بھی ان کی دسترس میں نہیں ۔ کھیتوں سے جا کر پھل اور سبزیاں لانا اور پھر ان کو دھو کر صاف ستھرے طریقے سے ڈبوں میں بند کر کے ٹرک پہ لادنااور گھروں پر ڈلیور کرنا، عام دنوں کی نسبت وبا کے دنوں میں ان کا یہ کام زیادہ سخت اور محنت طلب ہوگیا ہے لیکن یہ لڑکے تھک کر ہار ماننے کو تیار نہیں ۔

ان لڑکوں کا تعلق ” باریکما ”  نامی ایک گروپ سے ہے ۔ ان کی کہانی کا آغاز ہوتا ہے جنوری2010سے ۔ جب سیکڑوں افریقیوں نے اٹلی کے شہر روزارنو میں نسل پرستی کے خلاف ہونے والی بغاوت میں حصہ لیا ۔ اس بغاوت نے اٹلی کے دیہی علاقوں میں پناہ گزین افریقی مزدروں کے بدترین حالات پر سالوں سے موجود خاموشی توڑ ی ۔2011میں سلیمان اور سیڈو جن کا تعلق بالترتیب مالی اور گیمبیا سے تھا ، روزارنو سے روم پہنچے ۔ وہاں انہوں نے رہائش اختیار کی ، ورک پرمٹ حاصل کیے اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا شروع کردیا ۔

وہ اس غیر یقینی معاشرتی اور معاشی صورت حال سے ہر طور آزاد ہونا چاہتے تھے۔  باریکما نامی اس گروپ کی بنیاد  بغاوت میں حصہ لینے والے ہی چند افریقی نوجوانوں نے ہی رکھی  جس کا مطلب” طاقت” ہے ۔ دس سال بعد آج اسی باریکما سے تعلق رکھنے والے یہ نوجوان کورونا وائرس کے خلاف اٹلی کی جنگ میں صفِ اول کا حصہ بنے ہوئے ہیں ۔آج جب لوگ خود کو گھروں میں محصور کر چکے ہیں ایسے میں اسماعیل اور اس کے ساتھی لوگوں کے سکون کے لیے کھیتوں اور گوداموں میں اپنا سارا وقت بتا رہے ہیں ۔ سبزیوں اور ڈیری مصنوعات کے ڈلیوری باکس مقامی افراد کو ان کے گھروں تک پہنچا رہے ہیں۔ ان کا کام پہلے سے زیادہ اس لیے  بڑھ چکا ہے کہ اب لوگ سامان خریدنے باہر نہیں جا سکتے ۔ لہذا یہ لڑکے لوگوں کے سکون کے لیے خود دوگنی مشقت کو اوڑھنا بچھونا بنا چکے ہیں۔

بغاوت کے اگلے سال ہی باریکما کی بنیاد رکھنے کے بعد ان لڑکوں نے سب سے آسان قدم اٹھاتے ہوئے دہی بنانے کے کام کاآغاز کیا ۔ ان کے خیال میں یہ بہت زیادہ استعمال  اور آسانی سے تیار ہوجانے والی خوراک ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ انہوں نے یہ دہی اپنے اپنے مقامی طریقہ کار کے مطابق تیار کیا ۔یہ طریقہ اٹلی میں مستعمل نہیں تھا۔ سب سے پہلے انہوں نے اس کام کے لیے ایک جگہ منتخب کی تاکہ وہ دہی کی پیداوار شروع کر سکیں۔ اس کام کا آغازانہوں نے محض تیس یورو سے کیا ۔ جس سے وہ دہی بنانے کے لیے پورے ہفتے میں بس پندرہ لیٹر دودھ خرید پاتے ۔

ان آٹھ نوجوانوں نے شروع کا وقت بے حد مشکل گزارا ۔ نئی مصنوعات پرلوگوں کا اعتبار حاصل کرنے سے بڑا مشکل کام اور کون سا ہوسکتا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ، ہم نے مارکیٹ بنانے کے لیے کسی کو اپنا دہی خرید کے لیے مجبور نہ کرنے کا اصول بنایا تھا۔ ہمارا گاہک سے بس یہی کہنا ہوتا کہ ہم نے جو دہی تیار کیا ہے یہ بہت اچھے معیار کا ہے ۔

آپ اسے خریدیں گے تو ہماری مدد ہو گی اور نہیں خریدنا چاہتے تو کوئی بات نہیں ۔ 2010میں ہونے والی بغاوت کے بعد ان افریقی نوجوانوں کے ذہن میں یہ ادارہ بنانے کا خیال اس لیے آیا کہ ان میں سے ہر نوجوان کھیتی باڑی کے متعلق تمام امور سے واقف تھا ۔ انہوں نے کھیتوں میں اپنی فصل اگانے کی منصوبہ بندی کی ۔ اپنے کاروبار کے خواب کو تعبیر دینے میں ان افریقی نوجوانوں کو بے حدمسائل جھیلنے پڑے ۔ ابتدا میں جو دہی یہ نوجوان تیار کرتے اس کو بیچ کر منافع کے نام پر فقط اتنا بچتا کہ گھر فون کر کے اپنوں کی آواز سننے کا خرچ نکل آتا ۔بعد میں انہوں نے سائیکلوں کا استعمال کرتے ہوئے ہوم سروس بھی متعارف کروائی ۔ساتھ ہی ساتھ سبزیوں کی کاشت بھی شروع کر دی ۔ 2016تک ان کا کام اس قدر بڑھ چکا تھا کہ اب وہ ہر ہفتے دو سو لیٹر دودھ سے بنا دہی فروخت کرنے لگے ۔

باریکما کا دوسرا بڑاکارنامہ اٹلی کی سرزمین پرنامیاتی کاشت کاری کی بحالی کا تھا ۔ انہوں نے مکمل طور پر قدرتی سبزیاں اور پھل اگائے جن میں کسی قسم کا کوئی کیمیکل استعمال نہیںکیا جاتا ۔ باریکما کا جو اصول انہیں دوسرے گروپس سے ممتاز کرتا ہے وہ ماحول دوستی اوراحترام  ہے۔یہی ان کی کمپنی کا مقصد بھی ہے ۔ ساتھ ہی ان کا ایک اور مقصد ہے اور وہ یہ کہ اس کام کو اس قدر پھیلائیں کہ یہاں سے روزگار کے نت نئے مواقع نکلیں جو ان کی طرح دوسرے ممالک سے آئے تارکین وطن کو روزگار میسر کرنے کا بھی ذریعہ بن سکیں ۔اب اس ٹیم کے آٹھ ارکان ہیں ، جن میں سے چھے مغربی افریقی ممالک سے جب کہ دو آٹزم کا شکار اطالوی ہی ہیں ۔

کورونا نامی اس وبا کے دور میں اس وقت ان افریقی نوجوانوں کا وقت کھیتی باڑی سے لے کر گھروں میں سامان کی فراہمی تک کے بڑے جہاد میں گزر رہا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ ہم خود مشکل اٹھائیں گے لیکن تھک کر بیٹھیں گے نہیں، کیوں کہ اس مشکل گھڑی میں اٹلی کے عوام کو ہماری ضرورت ہے ۔ہمارے لیے یہی بات باعثِ اطمینان ہے کہ وبا کے اس خطر ناک وقت میں ہم ان کے لیے کار آمد بنے ہوئے ہیں ۔ ان کے ذہن میں کہیں ایک یہ سوچ بھی ہے کہ اس  طرح شاید افریقا کا ایک نیا اور خوب صورت چہرہ لوگوں کے سامنے آئے اور انہیں کئی دہائیوں سے اس سرزمین پر ہونے والے استحصال اور نسل پرستانہ سوچ سے چھٹکارا پانے میں مدد مل سکے ۔

باریکما کا مرکزروم سے بائیس میل کی دوری پر واقع ہے ۔ پینیٹو میںان کا گودام ہے ۔ باریکما سے جڑے یہ نوجوان وبا کے اس دور میں روزانہ کی ذمہ داریاں آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں ۔ ان کی خریداری کا مرکز ویا کیانا کی مشہور ٹریسٹ مارکیٹ ہے ۔عام طور پر اس مارکیٹ میں خریداروں کا ازد حام ہوتا تھا لیکن وبا کے دور میں یہاں ایک وقت میں بس چوبیس افراد کو داخلے کی اجازت ہے ۔ ان نوجوانوں میں سے ایک نوجوان کے ذمے مارکیٹ سے اشیاء خریدکر لانا ہے ۔

اس تنظیم کا ایک اور نوجوان ٹونی چار سال قبل نائیجیریا سے اٹلی آیا تھا ۔ یہاں آنے کے بعد اس نے دوسرے تارکین وطن کی طرح فوگیا میں ٹماٹر کے کھیتوں میں مزدروی شروع کر دی تھی ۔ یہاں اسے دوسرے مزدوروں کی طرح ساڑھے تین سو کلو ٹماٹر ڈبوں میں بند کرنے کے صرف چار یورو ملتے تھے ، جو ان تارکین وطن باشندوں کے استحصال کی ایک بڑی شکل تھی ۔ اسی گروپ سے وابستہ ایک اورنوجوان چیک ہے جو سینیگال میں فٹ بال کا کھلاڑی تھا اور وہاں ایک یونی ورسٹی میں بائیولوجی کا طالب علم بھی تھا ۔

2007میں وہ جب اٹلی آیا تو اس نے بھی زندگی گزارنے کے لیے کھیتوں میں ہی مزدوری کرنا شروع کردی ۔ اس کا کہنا ہے کہ یہاں آنے کے بعد اس بدتر صورت حال میں گزاراکرتے وقت میرا دماغ ہر وقت الجھن کا شکار رہتا۔میں اپنے اطراف کے حالات دیکھتا اور مخمصے میں رہتا ۔ روزارنو میں، دو سو سے تین سو افریقی باشندوں سے ایک ایک جگہ پر مشقت سے بھرپور کام لیا جاتا وہ بھی بنا کسی کانٹریکٹ کے ۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ اتنے  وسیع پیمانے  پر ہونے والا استحصال کسی کی نظروں سے پوشیدہ رہ جائے ۔ اس طرح کام لینے والے خود کو بھاری ٹیکسوں کی ادائیگی سے بھی بچا لیتے تھے۔ اب چیک بھی اس گروپ کا حصہ ہے جہاں یہ اشیاء کے پیک ہونے والے کارٹن اور کریٹس کے وزن کی جانچ کرتا ہے ۔

اس گروپ کے ارکان ہر ماہ بنیادی خرچے نکالنے کے بعد ہونے والے منافع کو برابری کی بنیاد پر آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں ۔ یہ افریقی نوجوان ترقی کے اپنے مطلوبہ مقصدکو گو کہ حاصل نہیں کر سکے اور مسلسل محنت اور مشقت سے اپنے مقصد کی طرف گامزن ہیں ، لیکن پچھلے کئی سال کے مقابلے میں2019 ان کے لیے نسبتاََ معاشی بہتری کا سال رہا ۔ اور اب جب کہ کورونا وائرس نے اٹلی کو اپنے قبضے میں لیا ہوا ہے ،  ان افریقی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس صدمے اورخوف کے وقت اپنے صارفین کو صحت مند رکھنے کے لیے اہم کام کر رہے ہیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سے زیادہ خوب صورت بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ وہ اس خوف ناک وقت میں لوگوںکی پیٹ بھرنے میں مدد کر رہے ہیں ۔ لیکن میرے نزدیک اس سے بھی زیادہ خوب صورت افریقا کا وہ چہرہ ہے جس نے مشکل کی اس گھڑی میں اپنے ساتھ کیا گیا استحصال فراموش کر کے ایک ایسے ملک میں عزم ، خدمت اور ہمت کی ایک نئی اور اچھوتی مثال قائم کی ہے جہاں آج بھی رنگ اور نسل کی برتری پر مبنی سوچ وہاں بسنے والوں کا ایمان ہے ۔





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *